کولکتہ / نئی دہلی(ویب ڈیسک): بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے مغربی بنگال میں پہلی بار حکومت بنا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
بی جے پی نے ریاست کی 294 نشستوں میں سے 206 نشستیں حاصل کر کے کلین سویپ کیا ہے، جسے ماہرین مودی کی مقبولیت کی واپسی اور معاشی اصلاحات کے لیے ایک مضبوط مینڈیٹ قرار دے رہے ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ “مغربی بنگال میں کمل کھل گیا ہے، یہ گڈ گورننس کی جیت ہے۔” جون 2024 کے قومی انتخابات میں اکثریت کھونے کے بعد، مغربی بنگال کی یہ جیت بی جے پی کے لیے سیاسی طور پر انتہائی اہم ثابت ہوئی ہے۔
یہ سیاسی کامیابی ایک ایسے وقت میں ملی ہے جب بھارت کو مشرق وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کی وجہ سے سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔
جنگ کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس سے بھارت کا مالیاتی خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی مارکیٹ سے ریکارڈ اربوں ڈالر نکال رہے ہیں، جس کی وجہ سے روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
آئی ٹی سیکٹر میں ملازمتیں سکڑ رہی ہیں اور زراعت پر اب بھی 45 فیصد آبادی کا انحصار ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس جیت کے بعد مودی حکومت کے پاس اب اتنی سیاسی طاقت آگئی ہے کہ وہ ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی اور عوامی فلاحی اسکیموں پر ہونے والے بھاری اخراجات کو منظم کرنے جیسے “سخت فیصلے” لے سکے گی۔
تاہم، اصل امتحان ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانا ہوگا جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دوبارہ بھارت کی طرف راغب کر سکیں۔
