نیویارک: اقوام متحدہ کے اگلے سیکرٹری جنرل کے انتخاب کے لیے اس ہفتے چار امیدواروں کے باضابطہ ‘آڈیشن’ کا آغاز ہو رہا ہے۔ 2016 کے مقابلے میں، جب 13 امیدوار میدان میں تھے، اس بار امیدواروں کی تعداد حیران کن حد تک کم ہے۔
موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی مدت ملازمت 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ اس بار دو خواتین اور لاطینی امریکہ سے تین امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ چلی کی سابق صدر مشیل بیچلیٹ منگل کو جنرل اسمبلی میں 193 رکن ممالک کے سفیروں کے سوالات کا جواب دینے والی پہلی امیدوار ہوں گی۔ ان کے بعد بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی (ارجنٹائن) اپنے ویژن کا دفاع کریں گے۔
بدھ کے روز اقوام متحدہ کی تجارتی سربراہ ریبیکا گرین اسپین اور سینیگال کے سابق صدر مکی سال کی باری آئے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2016 کے مقابلے میں آج کی دنیا زیادہ پولرائزڈ اور تنازعات کا شکار ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے رچرڈ گوون کے مطابق، موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اتنی سنگین ہے کہ امیدوار اور ان کی حکومتیں اب بہت محتاط ہیں۔ “اگر کسی امیدوار نے واشنگٹن یا بیجنگ کو ناراض کر دیا تو اس کے سنگین سفارتی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں،” انہوں نے وضاحت کی۔
اگرچہ اقوام متحدہ میں پہلی بار کسی خاتون کو سربراہ بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، لیکن سیاسی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔ مشیل بیچلیٹ کو امریکی ریپبلکن اراکین کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے، جنہوں نے ان کے ماضی کے سیاسی نظریات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے امریکی ویٹو کے استعمال کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کا چارٹر یہ واضح کرتا ہے کہ سیکرٹری جنرل کا انتخاب سیکیورٹی کونسل کی سفارش پر جنرل اسمبلی کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس جیسے مستقل اراکین کے پاس حتمی فیصلے کا اختیار اور ویٹو پاور موجود ہے۔
